16 اشعار

تلاش

Talaash

رستہ یہ جانا پہچانا ہے کبھی کبھی یہ اپنا ہوتا تھابرسوں برس تک ان پتھ پر پیار ہمارا سنجوتا تھا

سانجھ سویرے ان دیکھی برکھا سے نم رہتی تھی خاکشام کا غنچہ صبح کا سورج، شبنم سے منہ دھوتا تھا

خاک سے تیرے بدن کی خوشبو ڈالی ڈالی اڑتی تھیدھیان کا بھونرا پھول کی بکھری پنکھڑیوں کو پروتا تھا

سوچ کی اٹھتی گرتی لہریں تجھ کو کہیں سے لے آتیںساحل نور پہ تیرا سایہ بیٹھا پاؤں بھگوتا تھا

اک ماندی سی لہر اچانک تیری گود میں جا گرتیدھرتی سے آکاش تک اک آغوش کا عالم ہوتا تھا

سوتی رات کا جادو چلتا کھنچتے ہوئے دامن کی اوٹچاند کا جوبن چھلکا پڑتا ساگر پیاسا ہوتا تھا

گیسو تیرے بکھرے جاتے پہلو تیرے کھلتے جاتےشوق کی آنکھیں لوری دیتیں تیرا حجاب نہ سوتا تھا

سبزہ سبزہ نیند بچھی تھی، چاند کی سی رفتار سے ہمہولے ہولے پانو اٹھاتے خواب کا عالم ہوتا تھا

جانے کون سے موڑ پہ تیرا ہاتھ اچانک چھوٹ گیاگیان کی اس بورائی پون میں دھیان بھی تیرا ٹوٹ گیا

اپنی وہ دھرتی سارے جہاں میں پھر نہ کہیں پہچان ملیاس مٹی کی خوشبو پانے بیج اشکوں کے بوتا تھا

چہرہ چہرہ وحشت ٹھہری آنکھیں تجھ کو بھول گئیںمورت مورت چپ سی لگی تھی، جانے مجھے کیا ہوتا تھا

چڑھتے چاند کی آہٹ سن کر نگری نگری میرا چراغرات کی جھکتی بدلی کے دامن کو پکڑ کر روتا تھا

رستے رستے بکھری ہوئی تھی میرے چراغ کی تنہائیاک ماندی سی لو میں کس کس کی پرچھائیں سموتا تھا

رستہ چلتے لوگ بھی پاگل امیدوں کو سمجھاتےکتنا ہی آئینہ دکھاتے تیرا عکس نہ ہوتا تھا

دل کے دل بادل جب تیرا پرسا دے کے چلے جاتےدور کہیں اک ابر کا ٹکڑا جیسے مجھ کو روتا تھا

ہوش کے بجھتے دیے میں اب تک اس کا آنسو جلتا ہےاب تک اس کی کھوج میں پگلا دیس بدیس نکلتا ہے

— شہاب جعفری