6 اشعار

میں

Main

کس قدر روشن ہیں اب ارض و سمانور ہی نور آسماں تا آسماں

میرے اندر ڈوبتے چڑھتے ہوئے سورج کئیجسم میرا روشنی ہی روشنی

پانو میرے نور کے پاتال میںہاتھ میرے جگمگاتے آسمانوں کو سنبھالے

سر مرا کاندھوں پہ اک سورجکہ نادیدہ خلاؤں سے پرے ابھرا ہوا

اور زمیں کے روز و شب سے چھوٹ کرآگہی کی تیز رو کرنوں پہ میں اڑتا ہوا

چار جانب اک سہانی تیرگی کی کھوج میں نکلا ہوا

— شہاب جعفری