5 اشعار

آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہوا

Aandhiyan aati thin lekin kabhi aisa na hua

آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہواخوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہوا

روح نے پیرہن جسم بدل بھی ڈالایہ الگ بات کسی بزم میں چرچا نہ ہوا

رات کو دن سے ملانے کی ہوس تھی ہم کوکام اچھا نہ تھا انجام بھی اچھا نہ ہوا

وقت کی ڈور کو تھامے رہے مضبوطی سےاور جب چھوٹی تو افسوس بھی اس کا نہ ہوا

خوب دنیا ہے کہ سورج سے رقابت تھی جنہیںان کو حاصل کسی دیوار کا سایہ نہ ہوا

— شہریار