8 اشعار

منظم مناظر سے آگے

Beyond Organized Scenes

بہار اور خزاں موت اور زندگی کے منظم مناظر سے آگے بھیکچھ ایسے منظر ہیں

آنکھوں کی جن تک رسائی نہیں ہےشجر جس کی ساری جڑیں آسمانوں میں پھیلی ہیں

اور ٹہنیاں کھردری سخت لاوا اگلتی زمیںکے بدن میں مسلسل اترتی چلی جا رہی ہیں

ہوا کے سمندر میں بے بادباں کشتیوں پر درندےلہو رنگ خوشبو کی دیوار کا گہرا سایہ

ہری سرخ نیلی سیہ روشنیروشنی کی لکیریں

لکیروں کی آوازآواز کا دائرہ

دائرے اور نقطے میں بڑھتا ہوا فاصلہفاصلہ اور سفر

بہار اور خزاں موت اور زندگی کے منظم مناظر سے آگے بھیکچھ ایسے منظر ہیں آنکھوں کی جن تک رسائی نہیں ہے

— شہریار