5 اشعار

کچے رستوں سے

From Unpaved Paths

جو کچے رستوں سے پکی سڑکوں کا رخ کیا تھاکھڑاؤں اپنی اتار دیتے

بدن کو کپڑوں سے ڈھانپ لیتےتمہاری سیراب پنڈلیوں پر نشان جتنے ہیں کہہ رہے ہیں

کہ تم نے راتوں کو رات سمجھاہر ایک موسم میں اس کی نسبت سے پھل اگائے

بدن ضرورت غذا ہمیشہ تمہیں ملی ہےنہ جانے افتاد کیا پڑی ہے

جو کچے رستوں سے پکی سڑکوں کا رخ کیا ہے

— شہریار