4 اشعار

بھٹک گیا کہ منزلوں کا وہ سراغ پا گیا

Bhatak gaya ke manzilon ka woh suraagh pa gaya

بھٹک گیا کہ منزلوں کا وہ سراغ پا گیاہمارے واسطے خلا میں راستہ بنا گیا

صراحی دل کی آنسوؤں کی اوس سے بھری رہیاسی لیے عذاب ہجر اس کو راس آ گیا

سراب کا طلسم ٹوٹنا بہت برا ہواکہ آج تشنگی کا اعتبار بھی چلا گیا

تمام عمر خواب دیکھنے میں منہمک رہااور اس طرح حقیقتوں کو واہمہ بنا گیا

— شہریار