5 اشعار

زمیں سے تا بہ فلک دھند کی خدائی ہے

Zameen se ta ba falak dhund ki khudai hai

زمیں سے تا بہ فلک دھند کی خدائی ہےہوائے شہر جنوں کیا پیام لائی ہے

پیا ہے زہر بھی آب حیات بھی لیکنکسی نے تشنگیٔ جسم و جاں بجھائی ہے

یہ کوئی ضد ہے کہ ہے رسم عاشقی ہی یہیہوا کے رخ پہ جو شمع وفا جلائی ہے

یہ کم نہیں کہ طرف دار ہیں مرے کچھ لوگہنر کی ورنہ یہاں کس نے داد پائی ہے

مسافران رہ شوق اور تیز قدمکہ چند گام ہی اب منزل جدائی ہے

— شہریار