6 اشعار

بنیاد جہاں میں کجی کیوں ہے

Bunyad-e-jahan mein kaji kyun hai

بنیاد جہاں میں کجی کیوں ہےہر شے میں کسی کی کمی کیوں ہے

کیوں چہرۂ خار شگفتہ ہےاور شاخ گلاب جھکی کیوں ہے

وہ وصل کا دن کیوں چھوٹا تھایہ ہجر کی رات بڑی کیوں ہے

جس بات سے دل میں ہلچل ہےوہ بات لبوں پہ رکی کیوں ہے

مت دیکھ کہ کون ہے پروانہیہ سوچ کہ شمع جلی کیوں ہے

نہ تھے خواب تو آنسو ہی ہوتےمرا کاسۂ چشم تہی کیوں ہے

— شہریار