5 اشعار

گرد کو کدورتوں کی دھو نہ پائے ہم

Gard ko kuduraton ki dho na paaye hum

گرد کو کدورتوں کی دھو نہ پائے ہمدل بہت اداس ہے کہ رو نہ پائے ہم

وجود کے چہار سمت ریگزار تھاکہیں بھی خواہشوں کے بیج بو نہ پائے ہم

روح سے تو پہلے دن ہی ہار مان لیبوجھ اپنے جسم کا بھی ڈھو نہ پائے ہم

دشت میں تو ایک ہم تھے اور کچھ نہ تھاشہر کے ہجوم میں بھی کھو نہ پائے ہم

ایک خواب دیکھنے کی آرزو رہیاسی لیے تمام عمر سو نہ پائے ہم

— شہریار