6 اشعار

چپکے سے ادھر آ جاؤ

Chupke se idhar aa jao

دروازۂ جاں سے ہو کرچپکے سے ادھر آ جاؤ

اس برف بھری بوری کوپیچھے کی طرف سرکاؤ

ہر گھاؤ پہ بوسے چھڑکوہر زخم کو تم سہلاؤ

میں تاروں کی اس شب کوتقسیم کروں یوں سب کو

جاگیر ہو جیسے میرییہ عرض نہ تم ٹھکراؤ

چپکے سے ادھر آ جاؤ

— شہریار