4 اشعار

ایک اور موت

Ek aur maut

کٹ گیا دن ڈھلی شام شب آ گئیپھر زمیں اپنے محور سے ہٹنے لگی

چاندنی کروٹیں پھر بدلنے لگیآہٹوں کے سسکتے ہوئے شور سے

پھر مکاں بھر گیازہر سپنوں کا پی کر

کوئی آج کی رات پھر مر گیا!

— شہریار