5 اشعار

دیکھ دریا کو کہ طغیانی میں ہے

Dekh dariya ko ke tughyaani mein hai

دیکھ دریا کو کہ طغیانی میں ہےتو بھی میرے ساتھ اب پانی میں ہے

نور یہ اس آخری بوسے کا ہےچاند سا کیا تیری پیشانی میں ہے

میں بھی جلدی میں ہوں کیسے بات ہوتو بھی لگتا ہے پریشانی میں ہے

مدعی سورج کا سارا شہر ہےرات یہ کس کی نگہبانی میں ہے

سارے منظر ایک سے لگنے لگےکون شامل میری حیرانی میں ہے

— شہریار