5 اشعار

ہوا چلے ورق آرزو پلٹ جائے

Hawa chale waraq-e-aarzoo palat jaaye

ہوا چلے ورق آرزو پلٹ جائےطلوع ہو کوئی چہرہ تو دھند چھٹ جائے

یہی ہے وقت کہ خوابوں کے بادباں کھولوکہیں نہ پھر سے ندی آنسوؤں کی گھٹ جائے

بلندیوں کی ہوس ہی زمین پر لائیکہو فلک سے کہ اب راستے سے ہٹ جائے

گرفت ڈھیلی کرو وقت کو گزرنے دوکہ ڈور پھر نہ کہیں ساعتوں کی کٹ جائے

اسی لیے نہیں سوتے ہیں ہم کہ دنیا میںشب فراق کی سوغات سب میں بٹ جائے

— شہریار