5 اشعار

دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہو

Dil pareshan ho magar aankh mein hairani na ho

دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہوخواب دیکھو کہ حقیقت سے پشیمانی نہ ہو

کیا ہوا اہل جنوں کو کہ دعا مانگتے ہیںشہر میں شور نہ ہو دشت میں ویرانی نہ ہو

ڈھونڈتے ڈھونڈتے سب تھک گئے لیکن نہ ملااک افق ایسا کہ جو دھند کا زندانی نہ ہو

غم کی دولت بڑی مشکل سے ملا کرتی ہےسونپ دو ہم کو اگر تم سے نگہبانی نہ ہو

نفرتوں کا وہی ملبوس پہن لو پھر سےعین ممکن ہے یہ دنیا تمہیں پہچانی نہ ہو

— شہریار