9 اشعار

لا زوال ہونے کا

La Zawaal Hone Ka

رات کی کھلی کھڑکیبند ہونے والی ہے

چاند کے کٹورے میںاوس بھرنے والی ہے

یہ عجب سفر اس کااب تمام ہوتا ہے

لا زوال ہونے کادیکھو کیا بہانہ ہے

کل بھی اک حقیقت تھاآج بھی فسانہ ہے

آسمان کی جانبسب کے ہاتھ اٹھتے ہیں

اس کے خون کی سرخیبرگ و بار لائے گی

بے نماز بندوں پریعنی ان درندوں پر

ہر قدم مصائب کاانتظار لائے گا

— شہریار