4 اشعار

ایک سیاسی نظم

Ek siyasi nazm

مگر بے ذائقہ ہونٹوں سےتم نے سخت چٹانوں کو چوما تھا

وہ ان کی کھردراہٹ نوک نکلی چھاتیاںتیزابیت نمکین کائی

سب کی لذت سے رہے نا آشنا بچے تمہارےاسی باعث تو ان کے جسم میں خوں کی جگہ پانی کی گردش ہے

اسی باعث وہ اپنی نفرتوں کے خود ہدف ہیںاور دشمن ان پہ ہنستے ہیں

— شہریار