4 اشعار

سائے

Saaye

اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیںبلائیں لیتے ہیں آوارہ گرد خوابوں کی

دعائیں دیتے ہیں بچھڑے ہوؤں کو ملنے کیسنوارتے ہیں خم گیسوئے تمنا کو

پکارتے ہیں کسی اجنبی مسیحا کوسمیٹ لیتا ہے جب چاند اپنی کرنوں کو

تو دن کے گہرے سمندر میں ڈوب جاتے ہیںیوں ہی ہمیشہ طلوع و غروب ہوتے ہیں

— شہریار