6 اشعار

نفی سے اثبات تک

From Negation to Affirmation

رات کا یہ سمندر تمہارے لیےتم سمندر کی خاطر بنے ہو

دلوں میں کبھی خشکیوں کی سحر کا تصور نہ آئےاسی واسطے تم کو بے بادباں کشتیاں دی گئی ہیں

سفر رات کے اس سمندر کی گہرائیوں کا سفر بیکراں ہےاکیلے ہو تم اور اکیلے رہوگے

مگر آسماں کی جگہ آسماں اور زمیں کی جگہ یہ زمیںتم سے قائم ہے

دائم ہے یہ راتاور رات کے تم امیں ہو

اگر آنکھ میں نور کا کوئی منظر ہےاس کی حفاظت کرو

— شہریار