5 اشعار

ہماری آنکھ میں نقشہ یہ کس مکان کا ہے

Hamari aankh mein naqsha yeh kis makan ka hai

ہماری آنکھ میں نقشہ یہ کس مکان کا ہےیہاں کا سارا علاقہ تو آسمان کا ہے

ہمیں نکلنا پڑا رات کے جزیرے سےخطر اگرچہ اس اک فیصلے میں جان کا ہے

خبر نہیں ہے کہ دریا میں کشتیٔ جاں ہےمعاہدہ جو ہواؤں سے بادبان کا ہے

تمام شہر پہ خاموشیاں مسلط ہیںلبوں کو کھولو کہ یہ وقت امتحان کا ہے

کہا ہے اس نے تو گزرے گا جسم سے ہو کریقین یوں ہے وہ پکا بہت زبان کا ہے

— شہریار