5 اشعار

تمام خلق خدا دیکھ کے یہ حیراں ہے

Tamaam khalq-e-khuda dekh ke ye hairan hai

تمام خلق خدا دیکھ کے یہ حیراں ہےکہ سارا شہر مرے خواب سے پریشاں ہے

میں اس سفر میں کسی موڑ پر نہیں ٹھہرارہا خیال کہ وہ وادیٔ غزالاں ہے

یہ ایک میں کہ تری آرزو ہی سب کچھ ہےوہ ایک تو کہ مرے سائے سے گریزاں ہے

تو حافظے سے ترا نام کیوں نہیں مٹتاجو یاد رکھنا ہے مشکل بھلانا آساں ہے

میں اس کتاب کے کس باب کو پڑھوں پہلےوصال جس کا ہے مضموں فراق عنواں ہے

— شہریار