6 اشعار

ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہے

Hawa ka zor hi kaafi bahana hota hai

ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہےاگر چراغ کسی کو جلانا ہوتا ہے

زبانی دعوے بہت لوگ کرتے رہتے ہیںجنوں کے کام کو کر کے دکھانا ہوتا ہے

ہمارے شہر میں یہ کون اجنبی آیاکہ روز خواب سفر پہ روانہ ہوتا ہے

کہ تو بھی یاد نہیں آتا یہ تو ہونا تھاگئے دنوں کو سبھی کو بھلانا ہوتا ہے

اسی امید پہ ہم آج تک بھٹکتے ہیںہر ایک شخص کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے

ہمیں اک اور بھری بزم یاد آتی ہےکسی کی بزم میں جب مسکرانا ہوتا ہے

— شہریار