5 اشعار

زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے

Zakhmon ko rafu kar lein dil shad karein phir se

زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سےخوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سے

مدت ہوئی جینے کا احساس نہیں ہوتادل ان سے تقاضا کر بیداد کریں پھر سے

مجرم کے کٹہرے میں پھر ہم کو کھڑا کر دوہو رسم کہن تازہ فریاد کریں پھر سے

اے اہل جنوں دیکھو زنجیر ہوئے سائےہم کیسے انہیں سوچو آزاد کریں پھر سے

اب جی کے بہلنے کی ہے ایک یہی صورتبیتی ہوئی کچھ باتیں ہم یاد کریں پھر سے

— شہریار