5 اشعار

ہجوم درد ملا زندگی عذاب ہوئی

Hujoom-e-dard mila zindagi azab hui

ہجوم درد ملا زندگی عذاب ہوئیدل و نگاہ کی سازش تھی کامیاب ہوئی

تمہاری ہجر نوازی پہ حرف آئے گاہماری مونس و ہمدم اگر شراب ہوئی

یہاں تو زخم کے پہرے بٹھائے تھے ہم نےشمیم زلف یہاں کیسے باریاب ہوئی

ہمارے نام پہ گر انگلیاں اٹھیں تو کیاتمہاری مدح و ستائش تو بے حساب ہوئی

ہزار پرسش غم کی مگر نہ اشک بہےصبا نے ضبط یہ دیکھا تو لا جواب ہوئی

— شہریار