5 اشعار

ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے

Hum padh rahe the khwaab ke purzon ko jod ke

ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کےآندھی نے یہ طلسم بھی رکھ ڈالا توڑ کے

آغاز کیوں کیا تھا سفر ان خلاؤں کاپچھتا رہے ہو سبز زمینوں کو چھوڑ کے

اک بوند زہر کے لیے پھیلا رہے ہو ہاتھدیکھو کبھی خود اپنے بدن کو نچوڑ کے

کچھ بھی نہیں جو خواب کی صورت دکھائی دےکوئی نہیں جو ہم کو جگائے جھنجھوڑ کے

ان پانیوں سے کوئی سلامت نہیں گیاہے وقت اب بھی کشتیاں لے جاؤ موڑ کے

— شہریار