5 اشعار

طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہوا

Tilism khatam chalo aah be-asar ka hua

طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہواوہ دیکھو جسم برہنہ ہر اک شجر کا ہوا

سناؤں کیسے کہ سورج کی زد میں ہیں سب لوگجو حال رات کو پرچھائیوں کے گھر کا ہوا

صدا کے سائے میں سناٹوں کو پناہ ملیعجب کہ شہر میں چرچا نہ اس خبر کا ہوا

خلا کی دھند ہی آنکھوں پہ مہربان رہیحریف کوئی افق کب مری نظر کا ہوا

میں سوچتا ہوں مگر یاد کچھ نہیں آتاکہ اختتام کہاں خواب کے سفر کا ہوا

— شہریار