6 اشعار

جہاں پہ تیری کمی بھی نہ ہو سکے محسوس (ردیف .. ی)

JahaaN pe teri kami bhi na ho sake mehsoos (radeef .. i)

جہاں پہ تیری کمی بھی نہ ہو سکے محسوستلاش ہی رہی آنکھوں کو ایسے منظر کی

ہمیں تو خود نہیں معلوم کیا کسی سے کہیںکہ تجھ سے ملنے کی کوشش نہ کیوں بچھڑ کر کی

مگر یہ ذوق پرستش کہ اب بھی تشنہ ہےجبیں کو چوم چکے ایک ایک پتھر کی

کہاں پہ دفن وہ پرچھائیاں کریں یاروجو تاب لا نہ سکیں روشنی کے خنجر کی

ہر ایک گل کو ہے عشق سموم کا سوداہر ایک شاخ یہاں معتقد ہے صرصر کی

جدھر اندھیرا ہے تنہائی ہے اداسی ہےسفر کی ہم نے وہی سمت کیوں مقرر کی

— شہریار