5 اشعار

یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہے

Yeh ik shajar ke jis pe na kaanTa na phool hai

یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہےسائے میں اس کے بیٹھ کے رونا فضول ہے

راتوں سے روشنی کی طلب ہائے سادگیخوابوں میں اس کی دید کی خو کیسی بھول ہے

ہے ان کے دم قدم ہی سے کچھ آبروئے زیستدامن میں جن کے دشت تمنا کی دھول ہے

سورج کا قہر صرف برہنہ سروں پہ ہےپوچھو ہوس پرست سے وہ کیوں ملول ہے

آؤ ہوا کے ہاتھ کی تلوار چوم لیںاب بزدلوں کی فوج سے لڑنا فضول ہے

— شہریار