5 اشعار

جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا

Jahan mein hone ko ai dost yun to sab hoga

جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگاترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگا

اسی امید پہ کب سے دھڑک رہا ہے دلترے حضور کسی روز یہ طلب ہوگا

مکاں تو ہوں گے مکینوں سے سب مگر خالییہاں بھی دیکھوں تماشا یہ ایک شب ہوگا

کوئی نہیں ہے جو بتلائے میرے لوگوں کوہوا کے رخ کے بدلنے سے کیا غضب ہوگا

نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے ایسا حاکم شہرجو حادثہ نہیں پہلے ہوا وہ اب ہوگا

— شہریار