6 اشعار

یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا

Yeh kya hai mohabbat mein to aisa nahin hota

یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتامیں تجھ سے جدا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوتا

اس موڑ سے آگے بھی کوئی موڑ ہے ورنہیوں میرے لیے تو کبھی ٹھہرا نہیں ہوتا

کیوں میرا مقدر ہے اجالوں کی سیاہیکیوں رات کے ڈھلنے پہ سویرا نہیں ہوتا

یا اتنی نہ تبدیل ہوئی ہوتی یہ دنیایا میں نے اسے خواب میں دیکھا نہیں ہوتا

سنتے ہیں سبھی غور سے آواز جرس کومنزل کی طرف کوئی روانہ نہیں ہوتا

دل ترک تعلق پہ بھی آمادہ نہیں ہےاور حق بھی ادا اس سے وفا کا نہیں ہوتا

— شہریار