8 اشعار

جسم کی کشتی میں آ

Jism ki kashti mein aa

ہوا کے پاؤں اس زینے تلک آئے تھے لگتا ہےدیئے کی لو پہ یہ بوسہ اسی کا ہے

مری گردن سے سینے تکخراشوں کی لکیروں کا یہ گلدستہ

طلسمی قفل کھلنے کی اسی ساعت کی خاطرہجر کے موسم گزارے ہیں

ہوا نے مدتوں میں پاؤں پانی میں اتارے ہیںمری پسلی سے پیدا ہو

وہی گندم کی بو لے کرزمیں اور آسماں کی وسعتیں

مجھ میں سمٹ آئیںالوہی لذت نایاب سے سرشار کر مجھ کو

میں اک پیاسا سمندر ہوںتو اپنی جسم کی کشتی میں آ

اور پار کر مجھ کو

— شہریار