9 اشعار

سوگندھی

Sogandhi

بدی بھری یہ بوریاںنہ جانے کون موڑ تک

ہمارے ساتھ جائیں گیسفید چادروں میں کس نے رات کو چھپا لیا

ہماری ذلتوں سے کس نے اپنے عضو عضو کو سجا لیاکہ آج ناف کے قریب خواہشوں کی بھیڑ ہے

ادھر وہ گنبدوں کی گونججنگلوں کو جانے والے راستے

پلٹ پڑےتری گلی میں ہر طرف سے آ رہے ہیں بھیڑیے

کواڑ کھول دیکھ کیسا جشن ہےہوا بھرا وہ چاند

سات انچ نیچے آ گیاغذا ملے گی چیونٹیوں کو تیرا کام ہو گیا

ہمارے ناخنوں کے میل سےتیرے بدن کے گھاؤ بھر گئے

یہ حادثہ بھی ہو گیامگر کہاں سے بیچ میں یہ آسمان آ گیا

— شہریار