5 اشعار

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے

Justuju jis ki thi us ko to na paaya hum ne

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نےاس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے

سب کا احوال وہی ہے جو ہمارا ہے آجیہ الگ بات کہ شکوہ کیا تنہا ہم نے

خود پشیمان ہوئے نے اسے شرمندہ کیاعشق کی وضع کو کیا خوب نبھایا ہم نے

کون سا قہر یہ آنکھوں پہ ہوا ہے نازلایک مدت سے کوئی خواب نہ دیکھا ہم نے

عمر بھر سچ ہی کہا سچ کے سوا کچھ نہ کہااجر کیا اس کا ملے گا یہ نہ سوچا ہم نے

— شہریار