5 اشعار

کب سماں دیکھیں گے ہم زخموں کے بھر جانے کا

Kab samaan dekhenge hum zakhmon ke bhar jaane ka

کب سماں دیکھیں گے ہم زخموں کے بھر جانے کانام لیتا ہی نہیں وقت گزر جانے کا

جانے وہ کون ہے جو دامن دل کھینچتا ہےجب کبھی ہم نے ارادہ کیا مر جانے کا

دست بردار ابھی تیری طلب سے ہو جائیںکوئی رستہ بھی تو ہو لوٹ کے گھر جانے کا

لاتا ہم تک بھی کوئی نیند سے بوجھل راتیںآتا ہم کو بھی مزہ خواب میں ڈر جانے کا

سوچتے ہی رہے پوچھیں گے تری آنکھوں سےکس سے سیکھا ہے ہنر دل میں اتر جانے کا

— شہریار