7 اشعار

آندھی کی زد میں شمع تمنا جلائی جائے

Aandhi ki zad mein shama-e-tamanna jalayi jaye

آندھی کی زد میں شمع تمنا جلائی جائےجس طرح بھی ہو لاج جنوں کی بچائی جائے

بے آب و بے گیاہ ہے یہ دل کا دشت بھیاک نہر آنسوؤں کی یہاں بھی بہائی جائے

عاجز ہیں اپنے طالع بیدار سے بہتہر رات ہم کو کوئی کہانی سنائی جائے

سب کچھ بدل گیا ہے مگر لوگ ہیں بضدمہتاب ہی میں صورت جاناں دکھائی جائے

کچھ ساغروں میں زہر ہے کچھ میں شراب ہےیہ مسئلہ ہے تشنگی کس سے بجھائی جائے

شہروں کی سرحدوں پہ ہے صحراؤں کا ہجومکیا ماجرا ہے آؤ خبر تو لگائی جائے

نازل ہو جسم و روح پہ جب بے حسی کا قہراس وقت دوستو یہ غزل گنگنائی جائے

— شہریار