6 اشعار

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں

Kahan tak waqt ke dariya ko hum thehra hua dekhein

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیںیہ حسرت ہے کہ ان آنکھوں سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیں

بہت مدت ہوئی یہ آرزو کرتے ہوئے ہم کوکبھی منظر کہیں ہم کوئی ان دیکھا ہوا دیکھیں

سکوت شام سے پہلے کی منزل سخت ہوتی ہےکہو لوگوں سے سورج کو نہ یوں ڈھلتا ہوا دیکھیں

ہوائیں بادباں کھولیں لہو آثار بارش ہوزمین سخت تجھ کو پھولتا پھلتا ہوا دیکھیں

دھوئیں کے بادلوں میں چھپ گئے اجلے مکاں سارےیہ چاہا تھا کہ منظر شہر کا بدلا ہوا دیکھیں

ہماری بے حسی پہ رونے والا بھی نہیں کوئیچلو جلدی چلو پھر شہر کو جلتا ہوا دیکھیں

— شہریار