6 اشعار

کہتا نہیں ہوں لوگو میں کر کے دکھاؤں گا

Kehta nahin hoon logo main kar ke dikhaunga

کہتا نہیں ہوں لوگو میں کر کے دکھاؤں گاپھر سے جنوں چراغ ہوائیں جلاؤں گا

آنکھوں نے نیند رخ نہ کیا جانتا تھا میںتجھ خواب تک رسائی کبھی میں نہ پاؤں گا

سورج ستم نشانہ بنا ہوں اسی لیےچاہا تھا دھوپ قہر سے تجھ کو بچاؤں‌ گا

تنہا سفر پہ مجھ کو روانہ تو کر دیاسوچا نہیں کہ تجھ کو بہت یاد آؤں گا

سچ سن نہیں سکے گا کوئی ورنہ جی میں تھادنیا کو جیسا دیکھا ہے سب کو بتاؤں گا

بیتے دنوں کے ننھے پرندوں کے سائے میںجینے کا لطف اور بھی کچھ دن اٹھاؤں گا

— شہریار