5 اشعار

کھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیں

Khule jo aankh kabhi deedni ye manzar hain

کھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیںسمندروں کے کناروں پہ ریت کے گھر ہیں

نہ کوئی کھڑکی نہ دروازہ واپسی کے لیےمکان خواب میں جانے کے سیکڑوں در ہیں

گلاب ٹہنی سے ٹوٹا زمین پر نہ گراکرشمے تیز ہوا کے سمجھ سے باہر ہیں

کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا سراب سب کا ہےسبھی ہیں پیاس کے مارے سبھی برابر ہیں

حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیںمگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں

— شہریار