5 اشعار

کہنے کو تو ہر بات کہی تیرے مقابل (ردیف .. ے)

Kehne ko to har baat kahi tere muqabil (radeef .. e)

کہنے کو تو ہر بات کہی تیرے مقابللیکن وہ فسانہ جو مرے دل پہ رقم ہے

محرومی کا احساس مجھے کس لیے ہوتاحاصل ہے جو مجھ کو کہاں دنیا کو بہم ہے

یا تجھ سے بچھڑنے کا نہیں حوصلہ مجھ میںیا تیرے تغافل میں بھی انداز کرم ہے

تھوڑی سی جگہ مجھ کو بھی مل جائے کہیں پروحشت ترے کوچے میں مرے شہر سے کم ہے

اے ہم سفرو ٹوٹے نہ سانسوں کا تسلسلیہ قافلۂ شوق بہت تیز قدم ہے

— شہریار