7 اشعار

کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے

Kis fikr kis khayal mein khoya hua sa hai

کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہےدل آج تیری یاد کو بھولا ہوا سا ہے

گلشن میں اس طرح سے کب آئی تھی فصل گلہر پھول اپنی شاخ سے ٹوٹا ہوا سا ہے

چل چل کے تھک گیا ہے کہ منزل نہیں کوئیکیوں وقت ایک موڑ پہ ٹھہرا ہوا سا ہے

کیا حادثہ ہوا ہے جہاں میں کہ آج پھرچہرہ ہر ایک شخص کا اترا ہوا سا ہے

نذرانہ تیرے حسن کو کیا دیں کہ اپنے پاسلے دے کے ایک دل ہے سو ٹوٹا ہوا سا ہے

پہلے تھے جو بھی آج مگر کاروبار عشقدنیا کے کاروبار سے ملتا ہوا سا ہے

لگتا ہے اس کی باتوں سے یہ شہریارؔ بھییاروں کے التفات کا مارا ہوا سا ہے

— شہریار