5 اشعار

معبد زیست میں بت کی مثال جڑے ہوں گے

Ma'bad-e-zist mein but ki misaal jude honge

معبد زیست میں بت کی مثال جڑے ہوں گےیہ ننھے بچے جس روز بڑے ہوں گے

اتنے دکھی اس درجہ اداس جو سائے ہیںرات کے دشت میں تیز ہوا سے لڑے ہوں گے

دھوپ کے قہر کی لذت کے شیدائی ہیںیہ اشجار بھی خواب سے چونک پڑے ہوں گے

ہم کو خلا کی وسعت سے فرصت نہ ملیلاکھ خزانے اس دھرتی میں گڑے ہوں گے

وہ دن ہوگا آخری دن ہم سب کے لیےآئینہ دیکھنے جب ہم لوگ کھڑے ہوں گے

— شہریار