5 اشعار

منظر گزشتہ شب کے دامن میں بھر رہا ہے

Manzar guzishta shab ke daaman mein bhar raha hai

منظر گزشتہ شب کے دامن میں بھر رہا ہےدل پھر کسی سفر کا سامان کر رہا ہے

یا رت جگوں میں شامل کچھ خواب ہو گئے ہیںچہرہ کسی افق کا یا پھر ابھر رہا ہے

یا یوں ہی میری آنکھیں حیران ہو گئی ہیںیا میرے سامنے سے پھر تو گزر رہا ہے

دریا کے پاس دیکھو کب سے کھڑا ہوا ہےیہ کون تشنہ لب ہے پانی سے ڈر رہا ہے

ہے کوئی جو بتائے شب کے مسافروں کوکتنا سفر ہوا ہے کتنا سفر رہا ہے

— شہریار