3 اشعار

موت

Maut

ابھی نہیں ابھی زنجیر خواب برہم ہےابھی نہیں ابھی دامن کے چاک کا غم ہے

ابھی نہیں ابھی در باز ہے امیدوں کاابھی نہیں ابھی سینے کا داغ جلتا ہے

ابھی نہیں ابھی پلکوں پہ خوں مچلتا ہےابھی نہیں ابھی کم بخت دل دھڑکتا ہے

— شہریار