6 اشعار

نشاط غم بھی ملا رنج شاد مانی بھی

Nishat-e-gham bhi mila ranj-e-shaadmani bhi

نشاط غم بھی ملا رنج شاد مانی بھیمگر وہ لمحے بہت مختصر تھے فانی بھی

کھلی ہے آنکھ کہاں کون موڑ ہے یارودیار خواب کی باقی نہیں نشانی بھی

رگوں میں ریت کی اک اور تہ جمی دیکھوکہ پہلے جیسی نہیں خون میں روانی بھی

بھٹک رہے ہیں تعاقب میں اب سرابوں کےملا نہ جن کو سمندر سے بوند پانی بھی

زمیں بھی ہم سے بہت دور ہوتی جاتی ہےڈرا رہی ہے خلاؤں کی بیکرانی بھی

طویل ہونے لگی ہیں اسی لیے راتیںکہ لوگ سنتے سناتے نہیں کہانی بھی

— شہریار