5 اشعار

ہزار بار مٹی اور پائمال ہوئی ہے

Hazar baar mitti aur paayemal hui hai

ہزار بار مٹی اور پائمال ہوئی ہےہماری زندگی تب جا کے بے مثال ہوئی ہے

اسی سبب سے تو پرچھائیں اپنے ساتھ نہیں ہےصعوبت سفر شوق سے نڈھال ہوئی ہے

سکون پھر بھی تو وحشت سرائے دل میں نہیں ہےنگاہ یار اگرچہ شریک حال ہوئی ہے

خوشی کے لمحے تو جوں توں گزر گئے ہیں یہاں پربس ایک ساعت غم کاٹنی محال ہوئی ہے

لکیر نور کی جو آسمان دل پہ بنی ہےاندھیری رات کا حملہ ہوا تو ڈھال ہوئی ہے

— شہریار