13 اشعار

رات جدائی کی رات

Raat judaai ki raat

کٹتی نہیں سرد راتڈھلتی نہیں زرد رات

رات جدائی کی راتخالی گلاسوں کی سمت

تکتی ہوئی آنکھ میںقطرۂ شبنم نہیں

کون لہو میں بہےمیری رگوں میں چلے

تیز ہو سانسوں کا شورجلنے لگے پور پور

آئے سمندر میں جوشگر پڑے دیوار ہوش

سوکھی ہوئی شاخ پربرگ و ثمر کھل اٹھیں

آؤ مری نیند کیبکھری ہوئی پتیاں

آج سمیٹو ذراکب سے کھلا ہے بدن

اس کو لپیٹو ذراایک شکن دو شکن

بستر تنہائی پرپھر سے بڑھا دو ذرا

مجھ کو رلا دو ذراایک پہر رات ہے

رات جدائی کی رات

— شہریار