9 اشعار

رتجگوں کا زوال

Ratjagoon Ka Zawaal

وہ اندھیری رات کی چاپ تھیجو گزر گئی

کبھی کھڑکیوں پہ نہ جھک سکیکسی راستے میں نہ رک سکی

اسے جانے کس کی تلاش تھیمری آنکھ اوس سے تر رہی ہے

مجھے خواب بننے کی لت رہیکبھی ایک سونی سی رہ گزر پہ کھڑا تھا میں

کبھی دور ریل کی پٹریوں پہ پڑا تھا میںوہ کسی کے جسم کی چاپ تھی

جو گزر گئیاسے جانے کس کی تلاش تھی

مرے دل کے دشت کی ریت ہی میں کھلی تھی وہمجھے اک گلی میں ملی تھی وہ

اسے مجھ سے شوق وصال تھامرے خواب مجھ سے خفا ہوئے

مجھے نیند آئی میں سو گیایہی رتجگوں کا زوال تھا

— شہریار