5 اشعار

شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو

Shadeed pyaas thi phir bhi chhua na paani ko

شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کومیں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو

سیاہ رات نے بے حال کر دیا مجھ کوکہ طول دے نہیں پایا کسی کہانی کو

بجائے میرے کسی اور کا تقرر ہوقبول جو کرے خوابوں کی پاسبانی کو

اماں کی جا مجھے اے شہر تو نے دی تو ہےبھلا نہ پاؤں گا صحرا کی بیکرانی کو

جو چاہتا ہے کہ اقبال ہو سوا تیراتو سب میں بانٹ برابر سے شادمانی کو

— شہریار