6 اشعار

شہر جنوں میں کل تلک جو بھی تھا سب بدل گیا

Shehr-e-junoon mein kal talak jo bhi tha sab badal gaya

شہر جنوں میں کل تلک جو بھی تھا سب بدل گیامرنے کی خو نہیں رہی جینے کا ڈھب بدل گیا

پل میں ہوا مٹا گئی سارے نقوش نور کےدیکھا ذرا سی دیر میں منظر شب بدل گیا

میری پرانی عرض پر غور کیا نہ جائے گایوں ہے کہ اس کی بزم میں طرز طلب بدل گیا

ساعت خوب وصل کی آنی تھی آ نہیں سکیوہ بھی تو وہ نہیں رہا میں بھی تو اب بدل گیا

دوری کی داستان میں یہ بھی کہیں پہ درج ہوتشنہ لبی تو ہے وہی چشمۂ لب بدل گیا

میرے سوا ہر ایک سے دنیا یہ پوچھتی رہیمجھ سا جو ایک شخص تھا پتھر میں کب بدل گیا

— شہریار