5 اشعار

نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو

Nahin rok sako ge jism ki in parwaazon ko

نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کوبڑی بھول ہوئی جو چھیڑ دیا کئی سازوں کو

کوئی نیا مکین نہیں آیا تو حیرت کیاکبھی تم نے کھلا چھوڑا ہی نہیں دروازوں کو

کبھی پار بھی کر پائیں گی سکوت کے صحرا کودرپیش ہے کتنا اور سفر آوازوں کو

مجھے کچھ لوگوں کی رسوائی منظور نہیںنہیں عام کیا جو میں نے اپنے رازوں کو

کہیں ہو نہ گئی ہو زمین پرندوں سے خالیکھلے آسمان پر دیکھتا ہوں پھر بازوں کو

— شہریار