5 اشعار

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا

Siyah raat nahin leti naam dhalne ka

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کایہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کا

یہاں سے گزرے ہیں گزریں گے ہم سے اہل وفایہ راستہ نہیں پرچھائیوں کے چلنے کا

کہیں نہ سب کو سمندر بہا کے لے جائےیہ کھیل ختم کرو کشتیاں بدلنے کا

بگڑ گیا جو یہ نقشہ ہوس کے ہاتھوں سےتو پھر کسی کے سنبھالے نہیں سنبھلنے کا

زمیں نے کر لیا کیا تیرگی سے سمجھوتاخیال چھوڑ چکے کیا چراغ جلنے کا

— شہریار